کاش کی سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ یہ ہمیں اُس زندگی میں زندہ رکھتا ہے جو کبھی ہماری تھی ہی نہیں۔
کاش
کچھ لفظ بظاہر بہت چھوٹے ہوتے ہیں، مگر پوری زندگی کا بوجھ اپنے اندر اٹھائے پھرتے ہیں۔
ان میں ایک لفظ ہے : کاش۔
- کاش میں اُس دن خاموش رہتا۔
- کاش میں وہ فیصلہ نہ کرتا۔
- کاش میں اسے جانے نہ دیتا۔
- کاش میں اپنے والدین کے ساتھ کچھ اور وقت گزار لیتا۔
- کاش میں اُس موقع کو پہچان لیتا۔
ہم میں سے ہر شخص کے اندر کہیں نہ کہیں ایک ایسی زندگی موجود ہوتی ہے جو کبھی حقیقت نہیں بن سکی۔ ایک ایسا راستہ جس پر ہم چل سکتے تھے، مگر نہیں چلے۔ ایک ایسا فیصلہ جو ہم مختلف کر سکتے تھے۔ ایک ایسا شخص جسے ہم روک سکتے تھے۔ اور پھر ہم اپنی موجودہ زندگی میں رہتے ہوئے بھی اُس زندگی کا ماتم کرتے رہتے ہیں جو اب کبھی واپس نہیں آئے گی۔
شاید “کاش” کی اصل سزا یہی ہے کہ یہ ہمیں ماضی میں زندہ رکھتا ہے، جبکہ زندگی ہمارے سامنے سے گزرتی رہتی ہے۔
ہم بار بار وہی لمحہ یاد کرتے ہیں۔ سوچتے ہیں، اگر اُس دن میں نے ایسا نہ کیا ہوتا تو آج سب کچھ مختلف ہوتا۔ اگر میں نے اُس وقت ایک قدم اور اٹھایا ہوتا۔ اگر میں نے ایک بات کہنے کے بجائے خاموشی اختیار کی ہوتی۔
مگر ماضی کے پاس کوئی دروازہ نہیں جسے دوبارہ کھولا جا سکے۔
وہ صرف ایک دیوار ہے۔
اور ہم جتنا اسے کھٹکھٹاتے ہیں، اتنا ہی اپنے آج سے دور ہوتے جاتے ہیں۔
سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ “کاش” ہمیشہ کسی بڑی تباہی سے پیدا نہیں ہوتا۔ کبھی یہ ایک چھوٹی سی بات سے پیدا ہوتا ہے جسے ہم نے اُس وقت معمولی سمجھا تھا۔
- وہ فون کال جو ہم نے نہیں کی۔
- وہ ملاقات جسے ہم نے ٹال دیا۔
- وہ معافی جو ہم نے مانگنے میں دیر کر دی۔
- وہ وقت جو ہم نے یہ سوچ کر گزار دیا کہ ابھی بہت وقت باقی ہے۔
اور پھر ایک دن ہمیں احساس ہوتا ہے کہ وقت باقی نہیں تھا۔
ہمیں زندگی کا سب سے بڑا دھوکا شاید یہی ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس کل بھی یہی لوگ ہوں گے، یہی مواقع ہوں گے، یہی صحت ہوگی، یہی وقت ہوگا۔
مگر زندگی کسی سے وعدہ نہیں کرتی۔
اسی لیے “کاش” کا سب سے خطرناک پہلو یہ نہیں کہ ہم ماضی پر افسوس کرتے ہیں۔
خطرہ یہ ہے کہ ہم آج کو کل کا “کاش” بنا دیتے ہیں۔
ہم کل کے فیصلوں پر افسوس کرتے ہوئے آج کے فیصلے نہیں کر پاتے۔ کسی پرانی تکلیف کی وجہ سے ایک نئے رشتے کو موقع نہیں دیتے۔ ایک ناکامی کی وجہ سے دوبارہ کوشش نہیں کرتے۔ ایک غلطی کی وجہ سے خود کو زندگی کی اگلی خوشی کا مستحق نہیں سمجھتے۔
ہم ماضی کو سزا سمجھ کر اٹھائے پھرتے ہیں، حالانکہ ماضی کا اصل کام ہمیں سزا دینا نہیں، سکھانا تھا۔
جو ہو گیا، وہ واپس نہیں آئے گا۔ لیکن جو باقی ہے، وہ اب بھی آپ کے ہاتھ میں ہے۔
اپنے آپ سے ایک سوال کیجیے:
**اگر میری زندگی میں آج کا دن آخری موقع ہو، تو کیا میں اسے بھی “کاش” بنا دوں گا؟
کسی کو فون کرنا ہے تو کر لیجیے۔
معافی مانگنی ہے تو مانگ لیجیے۔
کسی کو بتانا ہے کہ وہ آپ کے لیے اہم ہے تو بتا دیجیے۔
کوئی خواب ابھی باقی ہے تو اس کی طرف ایک قدم بڑھا دیجیے۔
اور اگر ماضی میں کوئی غلطی ہوئی ہے تو اسے اپنے ساتھ قبر تک لے جانے کے بجائے، اس سے ایک سبق لے کر آگے بڑھ جائیے۔
ہر انسان کے پاس کچھ “کاش” ہوتے ہیں۔
انہیں مٹانا ضروری نہیں۔
بس انہیں اپنی زندگی کا مالک نہ بننے دیں۔
کیونکہ ایک دن آج بھی ماضی بن جائے گا۔
اور پھر شاید ہمارے پاس ایک اور “کاش” ہوگا:
کاش میں نے اُس وقت جو میرے پاس تھا، اسے محسوس کیا ہوتا۔
کاش میں نے اُس زندگی کو جیا ہوتا جو میرے سامنے تھی۔
آپ کا اپنا جاوید
آج کو “کاش” نہ بننے دیں
جو وقت آپ کے پاس ہے، جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں، اور جو خواب ابھی باقی ہیں، انہیں کل پر مت چھوڑیں۔ آج ایک قدم اٹھائیے، تاکہ آنے والا کل ایک اور “کاش” نہ بن جائے۔