Share with:

کاش کی سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ یہ ہمیں اُس زندگی میں زندہ رکھتا ہے جو کبھی ہماری تھی ہی نہیں۔

کاش

کچھ لفظ بظاہر بہت چھوٹے ہوتے ہیں، مگر پوری زندگی کا بوجھ اپنے اندر اٹھائے پھرتے ہیں۔

ان میں ایک لفظ ہے :  کاش۔

ہم میں سے ہر شخص کے اندر کہیں نہ کہیں ایک ایسی زندگی موجود ہوتی ہے جو کبھی حقیقت نہیں بن سکی۔ ایک ایسا راستہ جس پر ہم چل سکتے تھے، مگر نہیں چلے۔ ایک ایسا فیصلہ جو ہم مختلف کر سکتے تھے۔ ایک ایسا شخص جسے ہم روک سکتے تھے۔ اور پھر ہم اپنی موجودہ زندگی میں رہتے ہوئے بھی اُس زندگی کا ماتم کرتے رہتے ہیں جو اب کبھی واپس نہیں آئے گی۔

شاید “کاش” کی اصل سزا یہی ہے کہ یہ ہمیں ماضی میں زندہ رکھتا ہے، جبکہ زندگی ہمارے سامنے سے گزرتی رہتی ہے۔

ہم بار بار وہی لمحہ یاد کرتے ہیں۔ سوچتے ہیں، اگر اُس دن میں نے ایسا نہ کیا ہوتا تو آج سب کچھ مختلف ہوتا۔ اگر میں نے اُس وقت ایک قدم اور اٹھایا ہوتا۔ اگر میں نے ایک بات کہنے کے بجائے خاموشی اختیار کی ہوتی۔

مگر ماضی کے پاس کوئی دروازہ نہیں جسے دوبارہ کھولا جا سکے۔

وہ صرف ایک دیوار ہے۔

اور ہم جتنا اسے کھٹکھٹاتے ہیں، اتنا ہی اپنے آج سے دور ہوتے جاتے ہیں۔

سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ “کاش” ہمیشہ کسی بڑی تباہی سے پیدا نہیں ہوتا۔ کبھی یہ ایک چھوٹی سی بات سے پیدا ہوتا ہے جسے ہم نے اُس وقت معمولی سمجھا تھا۔

اور پھر ایک دن ہمیں احساس ہوتا ہے کہ وقت باقی نہیں تھا۔

ہمیں زندگی کا سب سے بڑا دھوکا شاید یہی ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس کل بھی یہی لوگ ہوں گے، یہی مواقع ہوں گے، یہی صحت ہوگی، یہی وقت ہوگا۔

مگر زندگی کسی سے وعدہ نہیں کرتی۔

اسی لیے “کاش” کا سب سے خطرناک پہلو یہ نہیں کہ ہم ماضی پر افسوس کرتے ہیں۔

خطرہ یہ ہے کہ ہم آج کو کل کا “کاش” بنا دیتے ہیں۔

ہم کل کے فیصلوں پر افسوس کرتے ہوئے آج کے فیصلے نہیں کر پاتے۔ کسی پرانی تکلیف کی وجہ سے ایک نئے رشتے کو موقع نہیں دیتے۔ ایک ناکامی کی وجہ سے دوبارہ کوشش نہیں کرتے۔ ایک غلطی کی وجہ سے خود کو زندگی کی اگلی خوشی کا مستحق نہیں سمجھتے۔

ہم ماضی کو سزا سمجھ کر اٹھائے پھرتے ہیں، حالانکہ ماضی کا اصل کام ہمیں سزا دینا نہیں، سکھانا تھا۔

جو ہو گیا، وہ واپس نہیں آئے گا۔ لیکن جو باقی ہے، وہ اب بھی آپ کے ہاتھ میں ہے۔

اپنے آپ سے ایک سوال کیجیے:

**اگر میری زندگی میں آج کا دن آخری موقع ہو، تو کیا میں اسے بھی “کاش” بنا دوں گا؟

کسی کو فون کرنا ہے تو کر لیجیے۔

معافی مانگنی ہے تو مانگ لیجیے۔

کسی کو بتانا ہے کہ وہ آپ کے لیے اہم ہے تو بتا دیجیے۔

کوئی خواب ابھی باقی ہے تو اس کی طرف ایک قدم بڑھا دیجیے۔

اور اگر ماضی میں کوئی غلطی ہوئی ہے تو اسے اپنے ساتھ قبر تک لے جانے کے بجائے، اس سے ایک سبق لے کر آگے بڑھ جائیے۔

ہر انسان کے پاس کچھ “کاش” ہوتے ہیں۔

انہیں مٹانا ضروری نہیں۔

بس انہیں اپنی زندگی کا مالک نہ بننے دیں۔

کیونکہ ایک دن آج بھی ماضی بن جائے گا۔

اور پھر شاید ہمارے پاس ایک اور “کاش” ہوگا:

کاش میں نے اُس وقت جو میرے پاس تھا، اسے محسوس کیا ہوتا۔

کاش میں نے اُس زندگی کو جیا ہوتا جو میرے سامنے تھی۔

آپ کا اپنا جاوید

آج کو “کاش” نہ بننے دیں

جو وقت آپ کے پاس ہے، جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں، اور جو خواب ابھی باقی ہیں، انہیں کل پر مت چھوڑیں۔ آج ایک قدم اٹھائیے، تاکہ آنے والا کل ایک اور “کاش” نہ بن جائے۔

اگر آپ مجھ سے کچھ سیکھنا چاہتے ہیں
یہ تحریر ایک سفر کا آغاز ہے۔ اگر آپ اس سفر میں مزید آگے بڑھنا چاہتے ہیں، تو اپنی ضرورت اور دلچسپی کے مطابق ان میں سے کوئی راستہ منتخب کر سکتے ہیں۔
میری کتابوں سے سیکھیں

میری سوچ اور تجربات کو کتابوں کے ذریعے جانیے۔

میرے پروگرامز کا حصہ بنیں
عملی رہنمائی کے لیے میرے پروگرامز کا حصہ بنیں۔
مجھ سے براہِ راست بات کریں
ذاتی رہنمائی کے لیے مجھ سے ون ٹو ون بات کریں۔

READY TO TRANSFORM YOUR FAMILY LIFE

Join Dr. Javed Iqbal’s powerful course and build harmony, respect, and love in your family starting today.

Original Price:

 Rs. 10,000

Discounted Price:

Rs. 6,000

(Limited-Time Offer)

READY TO MASTER YOUR ANGER?

Join Dr. Javed Iqbal’s powerful course and take control of your emotions—starting today.

Original Price:

 Rs. 6,500

Discounted Price:

 Rs. 4,500

(Limited-Time Offer)

Ready to Transform Your Parenting?

Join Dr. Javed Iqbal’s powerful course and take the first step today.

Original Price:

 Rs. 12,500 

Discounted Price:

 Rs. 7,500

(Limited-Time Offer)

Be the First to Know!

Sign up now to join the waitlist and stay informed about our upcoming online

Bring This Learning Opportunity to You

Let’s bring this course to your organization! Share your details, and our team will make it happen.